وینزویلا زلزلہ ہلاکتیں بڑھ کر 3,535 ہو گئی ہیں جبکہ ملک بھر میں امدادی اور بحالی کی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ 24 جون کو آنے والے دو طاقتور زلزلوں نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے بعد ہزاروں امدادی کارکن متاثرہ علاقوں میں لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔
قومی اسمبلی کے صدر جارج روڈریگیز کے مطابق تقریباً 17 ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ اب تک تقریباً 6,500 افراد کو ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 17 ہزار 854 افراد بے گھر ہیں جبکہ تقریباً 18 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق 7.2 اور 7.5 شدت کے مسلسل آنے والے زلزلوں سے 850 سے زائد عمارتیں متاثر ہوئیں، جن میں سے 190 مکمل طور پر منہدم ہو گئیں۔ اس قدرتی آفت کے باعث ملک کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔
سرکاری ادارے نقصان کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں، جبکہ اپوزیشن کی حمایت یافتہ ایک رپورٹ کے مطابق 30 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں ملبہ ہٹا کر زندہ بچ جانے والوں اور دیگر متاثرین کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز نے مائیکیتیا بین الاقوامی ہوائی اڈے کا دورہ کیا اور ہدایت کی کہ متبادل رن وے کے ذریعے تجارتی پروازیں جلد از جلد بحال کی جائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے امدادی سامان کی ترسیل اور بحالی کے عمل میں تیزی آئے گی۔
لا گوائرا سمیت کئی علاقوں میں امدادی کارروائیوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے ریسکیو کارروائیوں میں تاخیر اور ایندھن کی قلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں تک امداد پہنچانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
ملک کے یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران وینزویلا کی قیادت نے ایک بار پھر بین الاقوامی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ عالمی مالی وسائل تک بہتر رسائی سے تعمیرِ نو کا عمل تیز کیا جا سکتا ہے، جبکہ حکومت اور امدادی ادارے متاثرہ خاندانوں کو رہائش، طبی سہولیات اور دیگر ضروری امداد فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔