گیس کی قیمتیں برقرار

اوگرا ٹیرف میں کمی، مگر گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ

حکومت نے گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، حالانکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کمپنیوں کے لیے مقررہ اوسط ٹیرف میں کمی کر دی ہے۔ حکام کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران صارفین کو گیس کی قیمتوں میں کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا اور موجودہ نرخ برقرار رہیں گے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق اوگرا نے سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) اور سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (SNGPL) کے لیے اوسط مقررہ قیمت 1,793 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے کم کرکے 1,705 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی ہے۔ یہ کمی گیس کمپنیوں کے مقررہ ٹیرف میں کی گئی ہے۔

اس کے باوجود حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کمی کا فائدہ گھریلو، تجارتی یا دیگر صارفین کو منتقل نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے آئندہ مالی سال کے دوران گیس کے موجودہ نرخ ہی نافذ رہیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے کا بنیادی مقصد سوئی سدرن اور سوئی نادرن کی مالی پوزیشن کو مضبوط بنانا ہے۔ دونوں سرکاری گیس کمپنیوں کو گزشتہ چند برسوں سے بڑھتے ہوئے مالی دباؤ، گردشی قرضوں اور آپریشنل اخراجات جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے اس فیصلے سے متعلق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ یہ اقدام توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق حکومتی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ اوگرا نے مقررہ ٹیرف میں کمی کی ہے، تاہم صارفین کے لیے قیمتیں برقرار رکھنے سے گیس کمپنیوں کی مالی حالت بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس سے کمپنیوں کے مالی خسارے اور نقدی کے مسائل میں بھی کمی آنے کی توقع ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات، مالی استحکام اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم عام صارفین کو فی الحال گیس کی قیمتوں میں کسی قسم کی کمی کا فائدہ نہیں ملے گا اور موجودہ نرخ ہی برقرار رہیں گے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین