اسرائیل لبنان روم مذاکرات جولائی کے وسط میں اٹلی کے دارالحکومت روم میں ہوں گے، جہاں دونوں ممالک کے سفیر امریکی ثالثی میں ایک نئے دور کی بات چیت میں شرکت کریں گے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
انتونیو تاجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نے گزشتہ ماہ اسرائیل اور لبنان دونوں کو امن کے لیے مکالمے کی مکمل حمایت کا پیغام دیا تھا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ روم میں ہونے والی ملاقات خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اطالوی وزارت خارجہ کے مطابق مذاکرات 15 اور 16 جولائی کو سفیروں کی سطح پر ہوں گے۔ اس سے قبل واشنگٹن میں کئی ادوار کی بات چیت ہو چکی ہے، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں کمی اور اعتماد سازی کو فروغ دینا تھا۔
یہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا چھٹا دور ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں اور وہ تکنیکی طور پر اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں، تاہم بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔
گزشتہ ماہ اسرائیل، لبنان اور امریکہ نے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کا مقصد دیرپا امن کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔ یہ معاہدہ اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے چند روز بعد طے پایا تھا۔
سفارتی ماہرین کے مطابق روم میں ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے، سرحدی کشیدگی کم کرنے اور خطے میں سکیورٹی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم مذاکرات کا تسلسل مثبت پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔
اٹلی نے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ میں امن، مذاکرات اور سفارتی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ روم میں ہونے والا یہ اجلاس دونوں ممالک کو امریکی ثالثی میں بات چیت آگے بڑھانے اور خطے میں دیرپا استحکام کے لیے نئے امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔