ٹائفون باوی

چین اور تائیوان پر ٹائفون باوی کا خطرہ منڈلانے لگا

ٹائفون باوی کے باعث چین اور تائیوان میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کیونکہ تقریباً 200 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی ہواؤں کے ساتھ یہ طاقتور طوفان بحرالکاہل میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ کئی دہائیوں میں خطے کا سب سے بڑا اور تباہ کن سمندری طوفان ثابت ہو سکتا ہے۔

موسمیاتی اداروں کے مطابق ٹائفون باوی کا پھیلاؤ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر تک ہے۔ پیش گوئی ہے کہ یہ شمالی تائیوان کے قریب سے گزرتے ہوئے ہفتہ کی شام چین کے مشرقی صوبے فوجیان سے ٹکرا سکتا ہے، جہاں شدید بارش، تیز ہوائیں اور ساحلی طغیانی کا خطرہ ہے۔

تائیوانی حکام نے امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کے لیے 29 ہزار فوجیوں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ دارالحکومت تائی پے سمیت شمالی پہاڑی علاقوں میں ایک میٹر تک بارش متوقع ہے، جس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ 1987 کے بعد جسمانی حجم کے اعتبار سے تائیوان کو متاثر کرنے والا سب سے بڑا طوفان ہو سکتا ہے۔ ساحلی علاقوں میں سینکڑوں ماہی گیر کشتیاں محفوظ بندرگاہوں میں منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ شہری ریت کے تھیلے جمع کر رہے ہیں اور کسان فصلوں کی جلد کٹائی میں مصروف ہیں۔

ادھر چین ابھی ٹائفون مایساک سے ہونے والی تباہی سے سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ طوفان کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک، کئی لاپتہ، زرعی زمینیں تباہ اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد ایک نئے طوفان نے حکام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

طوفان کے خطرے کے باعث جاپان کے اوکیناوا میں بھی فضائی سفر متاثر ہوا ہے۔ کئی ملکی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جس سے ہزاروں مسافروں کے سفری منصوبے متاثر ہوئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائفون باوی خشکی سے ٹکرانے سے پہلے اگرچہ کچھ کمزور ہو سکتا ہے، تاہم اس میں موجود نمی اسے انتہائی خطرناک بنائے رکھے گی۔ سائنس دانوں کے مطابق ایل نینو کے باعث سمندری درجہ حرارت میں اضافے سے ایشیا میں شدید سمندری طوفانوں کے امکانات مزید بڑھ رہے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین