ایران نے ایرانی شہری امریکی حملے کے واقعے کے بعد ہرمزگان صوبے میں شہید ہونے والے آٹھ افراد کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق جاں بحق افراد میں چار خواتین، چار مرد اور دو معذور بھائی بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد امریکی حملوں کا نشانہ بنے، جس کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی فضا پائی جا رہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ امریکا نے گزشتہ رات ہرمزگان صوبے میں پلوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آٹھ بے گناہ شہری جان کی بازی ہار گئے۔ ان کے مطابق یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور ایک "جنگی جرم” ہے۔
This is how the United States attempts to showcase its so-called “strength”: by attacking civilian infrastructure and killing civilians.
Last night, in its unlawful attacks on Hormuzgan Province, the US committed another blatant war crime by targetting bridges and murdering… pic.twitter.com/W77QAq0aYK
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 17, 2026
ترجمان نے مزید کہا کہ جاں بحق ہونے والوں میں چار مرد اور چار خواتین شامل ہیں، جبکہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام اس واقعے کے بعد پہلے سے زیادہ متحد اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے پُرعزم ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ نے بندر خمیر میں امریکی حملے سے جاں بحق ہونے والے تین شہریوں کی تصاویر بھی جاری کیں۔ ان کے مطابق یہ افراد پل سے گزر رہے تھے جب حملہ کیا گیا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کے دفاع کا سلسلہ آخری سانس تک جاری رکھا جائے گا۔
3 villagers were martyred while crossing the Bandar Khamir Bridge. They were absolutely innocent, and we will never allow their blood to be in vain.
Iran is our homeland—from south to north, and from east to west. We will defend every inch of our land until our very last breath. pic.twitter.com/ZV2vxsnCDl
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 17, 2026
یہ تمام دعوے ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا کی جانب سے سامنے آئے ہیں، جبکہ اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل یا آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ موجودہ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، اور عالمی برادری تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔