سعودی عرب نے بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بحرین اور کویت پر ایرانی حملے ایسے وقت میں رپورٹ ہوئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی مختلف سیاسی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک کی توجہ ایک بار پھر علاقائی سلامتی کی جانب مبذول کر دی ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں بحرین اور کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ بحرین اور کویت پر ایرانی حملے خطے میں امن قائم رکھنے کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب نے علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق کشیدگی میں اضافہ نہ صرف خلیجی خطے بلکہ بین الاقوامی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔ سعودی حکام نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو حالات کو مزید خراب کر سکتے ہوں۔
مصر نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بحرین اور کویت کے ساتھ مکمل تعاون اور حمایت کا اظہار کیا۔ مصری وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ واقعات خلیجی خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں اور ان سے علاقائی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
قطر نے بھی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مخالفت کی۔ قطری وزارت خارجہ کے مطابق یہ حملے دونوں ممالک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔ قطر نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی ذرائع کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب بحرین کی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے سات بیلسٹک میزائل داغے گئے جنہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔ بحرینی حکام کے مطابق اس کارروائی سے ممکنہ جانی و مالی نقصان کو روکا گیا۔ حکومت نے میزائل اور ڈرون حملوں کو امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔
حالیہ صورتحال نے خلیج میں سیکیورٹی اور بحری راستوں کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ بحرین نے ایران سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے اور سیکیورٹی معاملات میں تعاون کا مطالبہ بھی کیا۔ ماہرین کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری کا کردار آنے والے دنوں میں مزید اہم ہوگا۔