امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو آئندہ ہفتے واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ مجوزہ ٹرمپ نیتن یاہو ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور غزہ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کورسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ان کے عرفی نام "بی بی” سے مخاطب کیا اور امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر پر سیاسی طنز بھی کیا۔ انہوں نے مذاقاً کہا کہ وہ شومر کو "خوبصورت فلسطینی لباس” بھیجیں گے تاکہ وہ نیتن یاہو کا استقبال کر سکیں۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر شومر کے بارے میں کہا کہ وہ "فلسطینی بن گئے ہیں”۔ شومر، جو یہودی ہیں، ماضی میں غزہ جنگ کے حوالے سے نیتن یاہو کی پالیسیوں پر تنقید کر چکے ہیں جبکہ اسرائیل کی سلامتی کی حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔ مختلف مسلم اور یہودی تنظیمیں اس قسم کے بیانات پر پہلے بھی تنقید کر چکی ہیں۔
نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق وہ پیر کو واشنگٹن پہنچیں گے اور منگل کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ دورے کے دوران وہ مرحوم امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم کی آخری رسومات میں بھی شرکت کریں گے۔
یہ ٹرمپ نیتن یاہو ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا کو اسرائیل کی حمایت اور غزہ سے متعلق سفارتی کوششوں پر عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔ اس ملاقات کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے نیتن یاہو کی امریکا آمد پر ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا، جس کا حوالہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کو بنایا گیا۔ تاہم ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ نیتن یاہو کو امریکا میں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ نیتن یاہو ملاقات میں غزہ کی صورتحال، مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی، ایران سے متعلق معاملات اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال متوقع ہے، جس کے خطے کی آئندہ سفارتی پیش رفت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔