حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ

حوثیوں کا سعودی عرب پر میزائل حملے کا دعویٰ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

یمن کے حوثی باغیوں نے ہفتے کے روز حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا، جس سے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی۔ یہ دعویٰ سعودی عرب کی جانب سے یمن میں حوثی اہداف پر کارروائی کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔

حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک میزائل حملے کے نتیجے میں سعودی شہر جیزان میں آگ بھڑک اٹھی۔ سعودی حکام نے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق نہیں کی، تاہم جیزان اور ینبع میں شہری دفاع نے مختصر وقت کے لیے احتیاطی انتباہ جاری کیا، جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔

یہ تازہ حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ سعودی اتحاد کی جانب سے الحدیدہ میں حوثی فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد سامنے آیا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئیں تاکہ سمندری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

یمنی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سعودی حملوں میں الحدیدہ کی بحری تنصیبات، بندرگاہ کے قریب ٹیلی کمیونیکیشن عمارت اور کمران جزیرے میں ایک فوجی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں دو افراد زخمی ہوئے۔

حوثیوں نے رواں ہفتے سعودی کمپنیوں سے منسلک جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا اور بحیرہ احمر سے گزرنے والے جہازوں کو خبردار کیا تھا۔ سعودی حکام نے تصدیق کی کہ ایک سعودی تجارتی جہاز کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پورے خطے کو متاثر کر رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتی مذاکرات جاری ہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ بحیرہ احمر اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے بھی نئے خدشات پیدا کر رہا ہے۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی تجارت، تیل کی سپلائی اور سفارتی کوششوں پر اس کے مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین