بھارت میں طلبہ احتجاج

بھارت میں طلبہ کا احتجاج ختم، حکومت نے اہم مطالبات تسلیم کر لیے

بھارت میں طلبہ احتجاج کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد اپنے احتجاج کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ پارٹی ترجمان نے کہا کہ حکومت نے ان کے اہم مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جس کے بعد تمام مظاہرین سے پرامن طور پر احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی گئی۔

یہ اعلان بھارتی یونین وزیر جے پی نڈا اور وزیر مملکت جتیندر سنگھ کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق حکومت نے طلبہ کے بیشتر مطالبات مان لیے ہیں اور احتجاج کے مقاصد حاصل ہو چکے ہیں۔

سی جے پی کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کو قبول کر لیا ہے۔ علاوہ ازیں، نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پرچہ لیک سے متاثر ہو کر خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

بھارت میں طلبہ احتجاج کے دوران پارٹی کارکنوں کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات واپس لینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق حکومت نے تعلیم میں اصلاحات سے متعلق سی جے پی کے پانچ نکاتی ایجنڈے سے بھی اصولی اتفاق کیا ہے، جبکہ مزید مذاکرات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

پارٹی رہنماؤں نے بتایا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ سی جے پی کی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ اس سلسلے میں حکومت منگل تک تحریری ضمانت فراہم کرے گی۔

 

یہ احتجاج مئی 2026 سے نئی دہلی میں جاری تھا اور اس دوران ہزاروں طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات اور مبینہ پرچہ لیک کے خلاف مظاہرے کیے۔ 20 جولائی کو جنتر منتر میں ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے لاٹھی چارج، واٹر کینن کا استعمال اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا تھا۔

بھارت میں طلبہ احتجاج کے خاتمے کے بعد اب توجہ حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد پر مرکوز ہوگی۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام کی شفافیت سے متعلق پیش رفت اہم ہوگی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین