ایران کی فوجی حکمت عملی دفاعی انداز سے زیادہ جارحانہ سمت کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کسی بھی جارحیت پر فوری اور وسیع تر جواب دینے کا انتباہ دیا ہے۔
محمد اکرمینیا کے مطابق ایران کی فوجی پالیسی ماضی میں بنیادی طور پر دفاع پر مرکوز تھی، تاہم حالیہ دو جنگوں سے حاصل ہونے والے تجربات کے بعد اس میں بتدریج تبدیلی آئی ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایران کی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ملک دشمن کے خلاف پیشگی کارروائیاں شروع کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ ان کے مطابق مقصد خطرات کا زیادہ مؤثر جواب دینا ہے۔
اکرمینیا نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کا فوری جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ردعمل ابتدائی حملے سے زیادہ وسیع بھی ہو سکتا ہے، جس سے تہران کے سخت تر فوجی مؤقف کا اظہار ہوتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران حالیہ جنگوں کے فوجی تجربات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی حکام نے تیز ردعمل، فوجی تیاری اور دفاعی صلاحیتوں میں بہتری کو اپنی سلامتی کی حکمت عملی کے اہم عناصر قرار دیا ہے۔
ایرانی فوجی ترجمان کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اپنی دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ دشمن کو روکنے کی صلاحیت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ تاہم ایران کا کہنا ہے کہ جارحانہ فوجی پوزیشن کا مطلب لازمی طور پر جنگ شروع کرنا نہیں ہے۔
تازہ انتباہ سے خطے میں ممکنہ کشیدگی کے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ایران کی فوجی حکمت عملی میں اب جارحیت کے خلاف فوری اور وسیع تر ردعمل پر زیادہ زور دیا جا رہا ہے، جبکہ تہران کسی بھی نئے حملے کے سنگین نتائج سے خبردار کر رہا ہے۔