امریکہ ایران بحری ناکہ بندی کے معاملے پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کی کارروائیوں کو “قزاقوں جیسا” قرار دے کر ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
انہوں نے فلوریڈا میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ امریکی فوج ایران کے بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کو روک کر ان پر قبضہ کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کئی ایرانی جہازوں کو سمندر میں روک کر تحویل میں لیا گیا ہے، خاص طور پر وہ جہاز جو بندرگاہوں سے روانہ ہوئے تھے۔
Trump on the U.S. Navy seizing ships:
It’s a very profitable business. We’re like pirates.pic.twitter.com/CTqUFl7QAe
— Clash Report (@clashreport) May 2, 2026
امریکہ ایران بحری ناکہ بندی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہے، جبکہ ایران بھی بعض سمندری راستوں پر پابندیاں عائد کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ان کارروائیوں سے مالی فائدہ بھی حاصل ہو رہا ہے، تاہم ان کے بیانات کو کئی حلقوں نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یہ صورتحال عالمی توانائی منڈی کو بھی متاثر کر رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ ایران بحری ناکہ بندی مستقبل میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ حل کے امکانات ابھی غیر واضح ہیں۔