مغربی بنگال انتخابی تشدد کے نتیجے میں بھارتی ریاست میں سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جہاں انتخابات کے بعد ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس اور سیاسی ذرائع کے مطابق مغربی بنگال انتخابی تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ریاستی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد حامی جماعتوں کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔
بی جے پی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دو کارکن جھڑپوں میں مارے گئے، جبکہ ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے بھی اپنے دو کارکنوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ مغربی بنگال انتخابی تشدد نے علاقے میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق جھڑپوں کے دوران ایک سینئر پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے، جس کی ٹانگ میں گولی لگی۔ مغربی بنگال انتخابی تشدد کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بی جے پی نے 294 میں سے 206 نشستیں جیت کر ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔ مغربی بنگال انتخابی تشدد اس جیت کے بعد شروع ہوا۔
مغربی بنگال، جہاں ایک کروڑ سے زائد آبادی ہے، طویل عرصے سے ممتا بنرجی کی جماعت کے زیر انتظام رہا ہے۔ انتخابی نتائج مسترد کرنے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی اور مغربی بنگال انتخابی تشدد بڑھ گیا۔
سکیورٹی ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں تاکہ مزید تشدد کو روکا جا سکے۔ مغربی بنگال انتخابی تشدد خطے میں سیاسی تقسیم کو مزید واضح کر رہا ہے۔