وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 6 ریجنز کے 26 اضلاع کو خیبرپختونخوا ہارڈ ایریا قرار دیتے ہوئے وفاقی انتظامی اور پولیس افسران کیلئے سکیورٹی رسک الاؤنس منظور کرلیا ہے۔ یہ فیصلہ دہشتگردی سے متاثرہ اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے والے علاقوں کیلئے کیا گیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد کی جانب سے خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری کو خط موصول ہوا ہے۔ خط کے مطابق صوبے کے 6 ریجنز میں شامل 26 اضلاع کو ہارڈ ایریا قرار دیا گیا ہے، جہاں تعینات افسران کو سکیورٹی خطرات کے پیش نظر اضافی الاؤنس دیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا ہارڈ ایریا قرار دیے گئے اضلاع میں پشاور، خیبر، مردان، چارسدہ، مہمند، نوشہرہ، کوہاٹ، ہنگو، کرک، کرم، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک شامل ہیں۔
اس فہرست میں جنوبی وزیرستان اپر و لوئر، سوات، بونیر، شانگلہ، باجوڑ، دیر اپر و لوئر اور چترال اپر و لوئر بھی شامل ہیں۔ ان اضلاع کو دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں میں شمار کیا گیا ہے، جہاں سکیورٹی کے حوالے سے مختلف چیلنجز موجود ہیں۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ متاثرہ اضلاع میں تعینات وفاقی انتظامی اور پولیس افسران کیلئے سکیورٹی رسک الاؤنس منظور کیا گیا ہے۔ اس الاؤنس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا اور اس کی ادائیگی وفاقی حکومت کرے گی۔
منظور شدہ پالیسی کے تحت سکیورٹی رسک الاؤنس افسر کی بنیادی تنخواہ کے 250 فیصد کے برابر ہوگا۔ افسر کے تبادلے پر الاؤنس فوری طور پر ختم ہوجائے گا۔ اس رقم پر انکم ٹیکس لاگو ہوگا جبکہ معطلی، او ایس ڈی، جوائننگ ٹائم اور تربیت کے دوران الاؤنس نہیں ملے گا۔
خیبرپختونخوا ہارڈ ایریا کیلئے منظور کیا گیا سکیورٹی رسک الاؤنس پنشن اور گریجویٹی میں بھی شمار نہیں ہوگا۔ خط کے مطابق ضلع صوابی اور ہزارہ ڈویژن میں تعینات افسران اس الاؤنس کے اہل نہیں ہوں گے۔