میکائے میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے بنگلادیش کو ایک اننگز اور 51 رنز سے شکست دے کر دو ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1 سے برابر کردی۔ میچ صرف دو دن میں ختم ہوگیا اور آسٹریلیا نے پہلے ٹیسٹ کی شکست کا بھرپور جواب دیا۔
بنگلادیش کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 64 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ آسٹریلوی فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 12 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے صرف 22 گیندوں میں پانچ وکٹیں حاصل کرکے بنگلادیش کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کردیا۔
آسٹریلیا نے اپنی واحد اننگز میں 210 رنز بنائے اور بنگلادیش پر 146 رنز کی برتری حاصل کرلی۔ کیمرون گرین نے 67 رنز کی اہم اننگز کھیلی جبکہ اسٹیو اسمتھ نے 42 رنز بنائے۔ آسٹریلوی بیٹنگ کو بنگلادیش کے بولرز کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
دوسری اننگز میں بھی بنگلادیش کے بیٹرز آسٹریلوی بولرز کا مقابلہ نہ کرسکے اور پوری ٹیم 95 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ یوں آسٹریلیا نے ایک اننگز اور 51 رنز سے شاندار کامیابی حاصل کرکے سیریز برابر کردی۔
مچل اسٹارک نے میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کرکے آسٹریلیا کی فتح میں مرکزی کردار ادا کیا۔ دوسری اننگز میں اسٹارک نے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ کپتان پیٹ کمنز اور اسپنر نیتھن لائن نے 3،3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
یہ کامیابی آسٹریلیا کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ بنگلادیش نے ڈارون میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں میزبان ٹیم کو 9 وکٹوں سے شکست دے کر تاریخ رقم کی تھی۔ یہ آسٹریلیا کی سرزمین پر بنگلادیش کی پہلی ٹیسٹ فتح تھی، جس کے بعد سیریز میں آسٹریلیا پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔
میکائے ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد آسٹریلیا اور بنگلادیش کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز 1-1 سے برابر ہوگئی۔ دوسرے ٹیسٹ میں آسٹریلوی بولنگ بالخصوص مچل اسٹارک کی تباہ کن کارکردگی فیصلہ کن ثابت ہوئی اور میزبان ٹیم نے صرف دو دن میں شاندار فتح حاصل کرلی۔