بلوچستان کے اسکولوں میں ڈیسک

بلوچستان کے اسکولوں میں ڈیسک کی فراہمی، 3 ماہ بعد بھی اعلان پر عمل نہ ہوسکا

کوئٹہ: بلوچستان کے بیشتر سرکاری اسکولوں میں طلبہ آج بھی بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں اور کئی اسکولوں میں بچے ڈیسک کے بجائے ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبے کے اسکولوں میں جاری ٹاٹ کلچر ختم کرنے اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے ڈیسک مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس مقصد کے لیے تین ماہ کی مدت مقرر کی گئی تھی۔

تاہم اعلان کو تین ماہ گزرنے کے باوجود بلوچستان کے اسکولوں میں ڈیسک کی فراہمی کا منصوبہ عملی شکل اختیار نہیں کرسکا۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں طلبہ تاحال فرش پر ٹاٹ بچھا کر تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس صورتحال کے باعث طلبہ کو نہ صرف مشکلات کا سامنا ہے بلکہ اسکولوں میں بنیادی تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ والدین اور طلبہ کی جانب سے اسکولوں میں ضروری فرنیچر کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔

ڈائریکٹر اسکولز اختر کھیتران کے مطابق اسکولوں میں ڈیسک کی فراہمی کے منصوبے کی سمری حکومت کو ارسال کردی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منصوبے کے لیے فنڈز دستیاب ہونے کے بعد اسکولوں کو ڈیسک فراہم کردیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق ڈیسک کی فراہمی کے لیے حکومتی منظوری اور فنڈز کا اجرا ضروری ہے، جس کے بعد منصوبے پر عملی پیش رفت ممکن ہوگی۔ تاہم فی الحال بیشتر اسکولوں میں طلبہ کو مطلوبہ فرنیچر کی فراہمی نہیں ہوسکی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین