چین ایران تعلقات ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گئے ہیں، چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے بدھ کو کہا کہ بیجنگ ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بیجنگ میں ملاقات کے دوران دیا۔
وانگ ژی نے کہا کہ چین ایران کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے بھی تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ جاری ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے ایران اور امریکا پر زور دیا کہ وہ معاملات میں عقل و فہم اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ چین نے تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
وانگ ژی اور عباس عراقچی کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری لڑائی کے اثرات وسیع خطے تک پہنچ رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال نے علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھائے ہیں۔ اس صورتحال میں مختلف ممالک سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر توجہ دے رہے ہیں۔
چین کا مؤقف اس کی جانب سے تنازع کے سفارتی حل کیلئے رابطوں کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ وانگ ژی کے بیان میں مذاکرات، تعاون اور ایران کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ تاہم چین نے ایران کیلئے کسی فوجی عزم کا اعلان نہیں کیا۔
ایران کیلئے بیجنگ میں ہونے والی ملاقات ایک اہم بین الاقوامی شراکت دار کے ساتھ صورتحال پر بات چیت کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ عباس عراقچی نے چینی قیادت کے ساتھ ایسے وقت میں تبادلہ خیال کیا جب خطے میں سفارتی رابطوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ چین کی شمولیت مختلف فریقوں کے درمیان رابطے کیلئے ایک اضافی ذریعہ بن سکتی ہے۔
چین ایران تعلقات خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم ہیں کیونکہ بیجنگ ایران کے ساتھ ساتھ دیگر اہم عالمی طاقتوں سے بھی روابط رکھتا ہے۔ وانگ ژی کی جانب سے ایران اور امریکا سے تحمل کی اپیل چین کی مذاکرات کے ذریعے بحران کو سنبھالنے کی ترجیح ظاہر کرتی ہے۔ آئندہ سفارتی کردار کا انحصار تنازع کی صورتحال اور فریقین کے درمیان مزید مذاکرات پر ہوگا۔