ثنا یوسف قتل کیس

ثنا یوسف قتل کیس: عدالت نے مجرم کو سزائے موت سنا دی

اسلام آباد کی سیشن عدالت نے اہم نوعیت کے ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزم عمر حیات کو سزائے موت سنا دی۔ یہ فیصلہ منگل کے روز ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے دیا۔ سوشل میڈیا پر مشہور ٹک ٹاکر کے قتل کے باعث اس کیس نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی تھی۔

عدالت نے مجرم کو مقتولہ کے ورثا کو 20 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے 2 جون 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں 17 سالہ ٹک ٹاکر کے گھر میں داخل ہو کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہو گئی۔ عمر حیات کا تعلق فیصل آباد سے بتایا گیا ہے۔

ثنا یوسف قتل کیس میں عدالت نے کئی ماہ تک سماعت کی، جس دوران 50 سے زائد پیشیاں ہوئیں۔ تفتیشی رپورٹ میں 31 گواہوں کے نام شامل تھے جبکہ 27 گواہوں نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ استغاثہ نے کیس کو مضبوط قرار دیتے ہوئے شواہد اور عینی گواہوں پر انحصار کیا۔

سماعت کے دوران ثنا یوسف کی والدہ اور پھوپھی نے عینی شاہدین کے طور پر عدالت میں بیان دیا۔ ان کے بیانات نے مقدمے میں اہم کردار ادا کیا۔ عدالت نے گزشتہ سال 20 ستمبر کو عمر حیات پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ چند روز بعد گواہوں کے بیانات کا سلسلہ شروع ہوا۔

ثنا یوسف سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں۔ ان کے ٹک ٹاک پر تقریباً 8 لاکھ جبکہ انسٹاگرام پر 5 لاکھ کے قریب فالوورز تھے۔ ان کے قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور نوجوان سوشل میڈیا شخصیات کی سکیورٹی پر نئی بحث شروع ہوئی۔

پولیس نے واقعے کے اگلے روز یعنی 3 جون 2025 کو عمر حیات کو گرفتار کر لیا تھا۔ حکام کے مطابق ملزم کو فوری تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے شواہد کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ شواہد ملزم کو جائے وقوعہ سے جوڑتے ہیں۔

ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد بھی یہ مقدمہ عوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مقتولہ کی والدہ فرزانہ یوسف کی مدعیت میں تھانہ سمبل میں نامعلوم شخص کے خلاف دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کو پاکستان کے نمایاں فوجداری مقدمات میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین