عاصم منیر ایران دورہ

عاصم منیر کا ایران دورہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا: دفتر خارجہ

عاصم منیر ایران دورہ پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی جاری کوششوں کا حصہ تھا۔ دفتر خارجہ نے جمعرات کو واضح کیا کہ وہ امریکی نمائندے کے طور پر تہران نہیں گئے تھے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے 24 اگست کو ایک روزہ دورے کے دوران ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے اس دورے کو پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں قرار دیا۔

ترجمان کے مطابق عاصم منیر ایران دورہ علاقائی کشیدگی کم کرنے اور فوجی تعطل ختم کرنے پر مرکوز تھا۔ ملاقاتوں میں امن کی بحالی کے لیے مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ دورے نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان اختلافات کم کرنے میں پاکستان کے تعمیری کردار کو ظاہر کیا۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت نے کشیدگی کم کرنے کی پاکستانی کوششوں کو سراہا۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں بحرانوں کے حل کے لیے برادر ممالک سے رابطے جاری رکھے گا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی علاقائی صورتحال پر مختلف ممالک کے ہم منصبوں سے رابطے میں ہیں۔

پاکستان آبنائے ہرمز سے متعلق سفارتی کوششوں میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت میں آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کی تجویز شامل تھی، تاہم یہ انتظام بعد میں ختم ہوگیا۔

عاصم منیر ایران دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کی بحالی اور تنازع کے جامع، منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین