پاکستان لوڈشیڈنگ ختم ہونے کا اعلان ایل این جی کی نئی کھیپ کی آمد کے بعد کیا گیا ہے، جس سے ملک بھر کے صارفین کو ایک ماہ سے جاری بجلی کی بندش سے ریلیف ملا ہے۔ حکام کے مطابق بجلی کی فراہمی اب معمول پر آچکی ہے۔
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ یہ بحران عالمی حالات اور ایل این جی کی فراہمی میں رکاوٹ کے باعث پیدا ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ کسی نظامی خرابی یا نااہلی کی وجہ سے نہیں تھا۔
اپریل کے وسط میں کئی علاقوں میں بجلی کی بندش پانچ سے سات گھنٹے تک رہی۔ تاہم حکومت نے بتدریج اس دورانیے کو کم کرتے ہوئے اسے دو گھنٹے تک محدود کیا اور پھر مکمل طور پر ختم کر دیا۔
لوڈ مینجمنٹ کے خاتمے کے متعلق وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا اہم پیغام:
الحمدللہ، ایل این جی کی بروقت فراہمی کے بعد ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث محدود وقت کے لیے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی، تاہم حکومت نے ذمہ دارانہ… pic.twitter.com/2ZCEPGDPGK— Awais Leghari (@akleghari) May 1, 2026
پاکستان لوڈشیڈنگ ختم ہونے میں اس وقت تیزی آئی جب حکومت نے مہنگے داموں عالمی مارکیٹ سے ایل این جی خریدی۔ اس اقدام سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس دوبارہ مکمل صلاحیت کے ساتھ چلنے لگے۔
اس دوران پن بجلی کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا جو تقریباً چھ ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی۔ اس کے ساتھ فرنس آئل کا محدود استعمال کیا گیا تاکہ صارفین پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
وزیر کے مطابق اپریل کے آغاز میں ایل این جی کی فراہمی رک گئی تھی جس سے بجلی پیداوار میں بڑا خلا پیدا ہوا۔ نئی کھیپ کی آمد نے اس کمی کو پورا کر دیا ہے۔
اگرچہ پاکستان لوڈشیڈنگ ختم ہو چکی ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک اب بھی عالمی توانائی منڈی پر انحصار کرتا ہے۔ مستقبل میں ایسے بحران سے بچنے کے لیے متبادل توانائی ذرائع ضروری ہوں گے۔