پاکستان کی معاشی ترقی

پاکستان کی معاشی ترقی 3.5 فیصد رہنے کا امکان، مہنگائی 10 فیصد کے قریب پہنچنے کی توقع

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 3.5 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ مہنگائی بڑھ کر 9.9 فیصد تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ یہ اندازے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی معیشت میں بہتری کی توقع کے باوجود پاکستان کو معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔

آئی ایم ایف نے بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر جاری کردہ اپنی تازہ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں پاکستان کی شرح نمو حکومتی ہدف سے کم رہنے کا امکان ظاہر کیا۔ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 4 فیصد ترقی کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ عالمی بینک نے گزشتہ ماہ 3.8 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کی تھی۔ پاکستان کی معیشت نے گزشتہ مالی سال 3.6 فیصد ترقی کی، جبکہ مالی سال 2025 میں یہ شرح 3.2 فیصد رہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی گزشتہ سال کے 7.1 فیصد سے بڑھ کر 9.9 فیصد ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے جاری کھاتے کے توازن میں بھی تبدیلی کی پیش گوئی کی ہے۔ مالی سال 2025 میں مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں 0.5 فیصد سرپلس کے بعد اب جاری کھاتے کا خسارہ ایک فیصد رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد سے کم ہو کر 6.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق درآمدی توانائی پر انحصار اور ٹیکنالوجی کی عالمی سپلائی چین میں محدود شمولیت پاکستان کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو اخراجات، حکومتی مالی وسائل اور بیرونی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تنازع طویل ہونے کی صورت میں پاکستان کی توانائی درآمدات، بیرون ملک سے ترسیلات زر اور علاقائی مالی معاونت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

عالمی سطح پر آئی ایم ایف نے 2026 میں معاشی ترقی کی شرح 3.1 فیصد رہنے اور 2027 میں بڑھ کر 3.4 فیصد ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ عالمی مہنگائی 2026 میں 4.7 فیصد تک پہنچنے کے بعد 2027 میں کم ہو کر 4.1 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے شعبے میں پیش رفت نے عالمی معیشت کو سہارا دیا ہے۔

فنڈ نے خبردار کیا کہ تنازعات میں شدت، تجارتی کشیدگی، مالیاتی کمزوریاں اور مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری سے توقعات کے مطابق فوائد حاصل نہ ہونا عالمی ترقی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف نے حکومتوں کو محصولات بڑھا کر مالی وسائل مضبوط بنانے اور مہنگائی کے دباؤ کے دوران کم آمدنی والے طبقوں کو عارضی اور ہدفی مالی مدد فراہم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک روز قبل خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا تھا کہ تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود حکومت رواں مالی سال میں 4 فیصد سے زیادہ معاشی ترقی کی توقع رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت سال کے دوران پانچ سے چھ سرکاری اداروں کی نجکاری کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ حاصل ہو سکتے ہیں۔ حکومتی توقعات اور آئی ایم ایف کی پیش گوئی میں فرق پاکستان کی معاشی صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کو ظاہر کرتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین