عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے آئی ایم ایف چوتھا جائزہ پاکستان مذاکرات کے سلسلے میں اسٹیٹ بینک حکام کی بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن پیر سے پاکستان کی معاشی ٹیم کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات شروع کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن ہفتے کو کراچی سے اسلام آباد پہنچے گا، جہاں مذاکرات کے اگلے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ مشن گزشتہ تین روز سے کراچی میں موجود تھا اور اس دوران اسٹیٹ بینک حکام اور سندھ حکومت کے ساتھ ملاقاتیں کی گئیں۔
سندھ حکومت نے آئی ایم ایف مشن کو صوبے کی مالی صورتحال اور وفاق کو سرپلس بجٹ فراہم کرنے سے متعلق بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق 30 جون تک سندھ کی ٹیکس آمدنی 593 ارب روپے رہی، جبکہ نان ٹیکس آمدنی دگنی ہو کر 80 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔
اسٹیٹ بینک حکام نے بھی آئی ایم ایف مشن کو ملک کی معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق مرکزی بینک نے زرمبادلہ ذخائر، مانیٹری پالیسی، درآمدات اور فارن ایکسچینج سے متعلق تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ پاکستان نے زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے زیادہ رکھنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت آئی ایم ایف چوتھا جائزہ پاکستان پروگرام کے حوالے سے جاری مذاکرات میں زیر بحث آنے والے اہم معاشی اشاریوں میں شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک نے آئی ایم ایف مشن کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے سے متعلق بھی بریفنگ دی۔ حکام نے معاشی صورتحال اور حالیہ مالیاتی پیش رفت سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
اسٹیٹ بینک حکام کی بریفنگ پر آئی ایم ایف کے اطمینان کے بعد مشن اب اسلام آباد میں پاکستان کی معاشی ٹیم کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات کرے گا۔ آئی ایم ایف چوتھا جائزہ پاکستان کے تحت مذاکرات میں معاشی پالیسی اور پروگرام سے متعلق امور پر مزید بات چیت متوقع ہے۔