عراق نے اپنے مغربی صحرائی علاقوں میں ایک بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا ہے جسے “عراق خودمختاری آپریشن” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی مبینہ غیر ملکی فوجی موجودگی اور سکیورٹی خدشات کے بعد شروع کی گئی ہے۔
عراقی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے مطابق یہ آپریشن عراقی فوج اور الحشد الشعبی (PMF) کے مشترکہ تعاون سے نجف اور کربلا کے صحرائی علاقوں میں کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد اہم راستوں کو محفوظ بنانا اور ملک کی سرحدی و داخلی خودمختاری کو مضبوط کرنا ہے۔
عراق خودمختاری آپریشن کے دوران 120 کلومیٹر کے علاقے میں سرچ اور سکیورٹی کلئیرنس آپریشن کیا جا رہا ہے جس میں بم ڈسپوزل یونٹس اور انٹیلی جنس ادارے بھی شامل ہیں۔ اس کا ایک اہم مقصد کربلا اور نخیب روڈ کو محفوظ بنانا ہے۔
فوجی حکام کے مطابق کارروائی اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر جاری ہے اور حساس علاقوں میں 70 کلومیٹر تک گہرائی میں سرچ آپریشن کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مغربی صحرائی علاقے میں غیر ملکی فوجی سرگرمی ہو سکتی ہے۔ تاہم حکومت نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔
عراقی جوائنٹ آپریشنز کمانڈ نے بیان میں کہا ہے کہ ملک میں کسی بھی غیر ملکی غیر مجاز فوجی اڈے یا موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔ حکومت نے جھوٹی خبروں پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی انتباہ دیا ہے۔
عراق خودمختاری آپریشن کو ماہرین عراق کی جانب سے سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے اور حساس علاقوں میں مکمل ریاستی اختیار قائم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔