بھارت کاکروچ تحریک

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا بھارتی چیف الیکشن کمشنر کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم

بھارت کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے 48 گھنٹوں میں مستعفی نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر احتجاج شروع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ نوجوانوں کی اس تحریک کا یہ اعلان ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا۔

بھارت کاکروچ تحریک کے بانی ابھجیت ڈپکے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر گیانیش کمار مقررہ مدت میں عہدہ نہیں چھوڑتے تو ملک بھر میں احتجاج شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک چیف الیکشن کمشنر کے استعفے تک جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ معاملہ ایک رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں بتایا گیا کہ دو الیکشن کمشنرز نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے طریقہ کار پر متعدد مرتبہ سوالات اٹھائے یا تحفظات کا اظہار کیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاملات 10 ماہ کے دوران چیف الیکشن کمشنر کے سامنے زیر بحث آئے۔

اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں سے وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے اقدامات قانون کے مطابق ہیں۔

مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی جمعہ کو ملک بھر میں ریاستی الیکشن دفاتر کے باہر احتجاجی مارچ کا اعلان کیا ہے۔ جماعت گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے، ان کی گرفتاری اور ان کے دور میں ووٹر فہرستوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ کمشنرز کے درمیان مختلف آرا اور مشاہدات ادارہ جاتی فیصلہ سازی کا معمول کا حصہ ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے بھی کمیشن کا دفاع کرتے ہوئے اپوزیشن پر ادارے کے خلاف مہم چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔

بھارت کاکروچ تحریک نے جولائی میں ہونے والے نوجوانوں کے احتجاج کے بعد نمایاں توجہ حاصل کی تھی۔ ان مظاہروں کے نتیجے میں مبینہ امتحانی پرچوں کے افشا کے معاملے پر بھارت کے وزیر تعلیم نے استعفیٰ دیا تھا۔ تازہ تنازع نے اب انتخابی انتظام، ووٹر فہرستوں اور الیکشن کمیشن کے کردار پر سیاسی بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین