ایران میں مہنگائی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا، جہاں سالانہ مہنگائی کی شرح 66 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ ایران کے شماریاتی مرکز کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران کم از کم 8 بنیادی اشیاء کی قیمتیں دوگنا سے بھی زیادہ ہوگئی ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث شہریوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔ قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی قوت خرید پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خوراک اور مشروبات کی قیمتوں میں سالانہ بنیادوں پر 128 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے نے کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، کیونکہ گھریلو بجٹ کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہوتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں ایران کی ماہانہ مہنگائی کی شرح 3.1 فیصد رہی۔ ماہانہ بنیادوں پر قیمتوں میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مہنگائی کا دباؤ بدستور برقرار ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کے بجائے مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافے سے ایران میں جاری زندگی گزارنے کے اخراجات کے بحران کی شدت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بنیادی اشیاء کی قیمتیں مسلسل بڑھنے سے عام شہریوں کے لیے محدود آمدنی میں گھریلو اخراجات پورے کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کی معیشت کو متعدد بیرونی اور اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی پابندیاں ایرانی معیشت پر اثر انداز ہورہی ہیں، جبکہ خطے میں جاری تنازعات اور ان سے وابستہ معاشی اخراجات نے بھی ملک کی اقتصادی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔