ایران نے کہا ہے کہ ایران امریکا مذاکرات کی 60 روزہ مدت اب غیر متعلق ہوگئی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو بیان دیا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں 60 روزہ حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایران دباؤ، دھمکیوں یا مقررہ مدت کے تحت اپنی پالیسیاں تشکیل نہیں دیتا۔ ان کے مطابق یادداشت میں مذاکرات کے لیے 60 دن کی مدت کا تصور موجود تھا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق مذاکرات میں دو اہم معاملات شامل تھے۔ ان میں امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور جوہری مسئلے کا حل شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں مذاکراتی مدت بڑھائی بھی جا سکتی تھی۔ تاہم واشنگٹن کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث بات چیت شروع نہ ہوسکی۔
بقائی نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے یادداشت کی سنگین اور وسیع پیمانے پر خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے ایران امریکا مذاکرات کی 60 روزہ مدت پر بحث کی عملی اہمیت ختم ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے اختلافات حل نہ ہونے کی وجہ ثالثوں کی کمی نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور قطر پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ بقائی کے مطابق بعض یورپی ممالک نے بھی اپنی خدمات پیش کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی نئے ثالث کو باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔ بقائی نے کہا کہ سکیورٹی صورتحال اور متعدد فریقوں کی موجودگی نے بحری راستے کا نقشہ تیار کرنے کا عمل پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ممکنہ اتفاق رائے میں روڈ میپ اور مشترکہ اعلامیہ شامل ہوسکتا ہے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ لاپتا فوجی پائلٹس کا معاملہ بھی تہران کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ قطر نے پہلے ایرانی الزام مسترد کیا تھا کہ تین پائلٹس اس کی تحویل میں ہیں۔ یہ پیش رفت ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں، جوابی کارروائیوں اور بعد میں جنگ بندی و امن معاہدے کی بحالی کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔