ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے حقوق اور فوجی صلاحیتوں کا دفاع جاری رکھے گا اور کسی ایسے دباؤ کو قبول نہیں کرے گا جس کا مقصد تہران کو جھکنے پر مجبور کرنا ہو۔ انہوں نے قومی مفادات کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔
پیزشکیان نے یہ بات جمعے کو نشر ہونے والے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے تیسرے اور آخری حصے میں کہی۔ یہ پروگرام ان کے منصب سنبھالنے کی دوسری سالگرہ کے موقع پر نشر کیا گیا، جبکہ پریس ٹی وی نے بھی ان کے بیان کی رپورٹ دی۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ ایران ایسے مطالبات تسلیم نہیں کرے گا جن کے ذریعے اسے ہتھیار ڈالنے یا اپنی پالیسی سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے۔ ان کے مطابق تہران اپنے مفادات کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھے گا۔
پیزشکیان نے ایران کی فوجی صلاحیتوں سے دستبرداری کے امکان کو بھی مسترد کردیا۔ انہوں نے فوجی اور دفاعی طاقت برقرار رکھنے کو ایران کے لیے ناقابلِ سمجھوتہ معاملہ قرار دیا، جس سے تہران کی دفاعی پالیسی کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔
ایرانی صدر نے سوال اٹھایا کہ ایران کو اسرائیل کی خواہش کے مطابق راستہ اختیار کیوں کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ایران اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اسے بیرونی دباؤ کے تحت اپنی دفاعی طاقت چھوڑنے کی ضرورت نہیں۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران کی سلامتی اور علاقائی کردار سے متعلق کشیدگی برقرار ہے۔ پیزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کو قبول کرے گا۔
پیزشکیان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں تہران کی قومی سلامتی پالیسی کا اہم حصہ رہیں گی۔ ایرانی صدر کے مطابق ملک بیرونی دباؤ کے باوجود اپنے حقوق، مفادات اور دفاعی طاقت کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔