ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تباہی کی دھمکی مسترد کرتے ہوئے اسے طاقت کے بجائے اسٹریٹجک مایوسی کی علامت قرار دیا ہے۔ ایرانی فوج نے مزید کسی حملے کی صورت میں جواب دینے کے لیے تیار رہنے کا بھی اعلان کیا۔
یہ ردعمل 22 ستمبر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ٹرمپ کے خطاب کے بعد سامنے آیا۔ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں خبردار کیا تھا کہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایران کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے سفارتی حل کی گنجائش بھی ظاہر کی۔
ایران کے جنرل اسٹاف نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ایک اعلامیے کے ذریعے دیا، جسے ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا۔ بیان میں امریکی صدر پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کیا۔
ایرانی جنرل اسٹاف نے امریکی دھمکیوں کو واشنگٹن کے لیے اسٹریٹجک تعطل قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ کی جانب سے بار بار دی جانے والی دھمکیوں کو امریکی طاقت کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایرانی حکام نے انہیں اسٹریٹجک مایوسی سے تعبیر کیا۔
ایران نے مزید فوجی کارروائی کی صورت میں جواب دینے کا بھی انتباہ دیا۔ ایرانی بیان کے مطابق مسلح افواج امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایسے حملے کر سکتی ہیں جو گزشتہ کارروائیوں کے مقابلے میں زیادہ شدید اور غیر متوقع ہوں گے۔
امریکا اور ایران کے درمیان یہ سخت بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب فوجی کشیدگی کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی اور ایرانی نمائندوں کے درمیان ثالثی کے ذریعے بات چیت بھی ہوئی، جس سے سفارتی کوششوں کا سلسلہ برقرار رہنے کا اشارہ ملتا ہے۔
ٹرمپ کی تباہی کی دھمکی اور ایران کے جواب نے موجودہ صورتحال میں فوجی بیانات اور سفارتی کوششوں دونوں کو اہم بنا دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے جبکہ مذاکرات کے ذریعے تنازع کے ممکنہ حل کی کوششیں بھی جاری ہیں۔