ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے جواب پر ردعمل کسی اہمیت کا حامل نہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی معاملات پر کشیدگی برقرار ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران میں قومی فیصلے اور حکمت عملیاں کسی امریکی صدر کو خوش کرنے کے لیے نہیں بنائی جاتیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ اگر ٹرمپ ایران کے مؤقف سے خوش نہیں تو یہ دراصل ایران کے حق میں بہتر سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی جانب سے دی جانے والی تجاویز دراصل ٹرمپ کے حد سے زیادہ مطالبات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھیں۔ ذرائع کے مطابق ایران ایسی شرائط قبول نہیں کرسکتا جو اس کی خودمختاری اور علاقائی پوزیشن کو متاثر کریں۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں جنگی نقصانات کے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری اور اختیار پر بھی زور دیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی منڈی اور علاقائی امن و استحکام پر اثر ڈال سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ بیانات دونوں ممالک کے درمیان جاری تعطل کو ظاہر کرتے ہیں۔ مختلف سفارتی کوششوں کے باوجود دونوں فریق پابندیوں، علاقائی اثرورسوخ اور سکیورٹی معاملات پر اب بھی اختلافات رکھتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مذاکرات اسی صورت آگے بڑھ سکتے ہیں جب دونوں ممالک اپنے بنیادی مطالبات میں کچھ لچک دکھائیں۔ عالمی اور علاقائی طاقتیں بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے اثرات مشرق وسطیٰ اور عالمی تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔