ایران نے امریکا کے ساتھ نئے مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے پیر کو یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ایرانی وفد کا امریکا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں۔ خبر ایجنسی نے یہ بات وفد کے قریب ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتائی۔
تازہ بیان کے بعد ایران امریکا مذاکرات کے امکان پر دوبارہ توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ ٹرمپ نے اتوار کو امریکی میڈیا ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں ایران کے ساتھ بات چیت جلد دوبارہ شروع ہونے کی توقع ہے۔
تاہم ایرانی بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود ایرانی وفد فی الحال امریکی حکام کے ساتھ نئے مذاکرات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایران کی جانب سے اس مؤقف کے حوالے سے مزید تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
یہ پیش رفت ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق تہران کی ایک تجویز مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر دوبارہ کھولنے کی تجویز دی تھی، تاہم امریکی صدر نے اسے مسترد کردیا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ اس لیے اس کی صورتحال سے متعلق ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کا تازہ بیان ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی توقع سے مختلف مؤقف پیش کرتا ہے۔ فی الحال نیویارک میں موجود ایرانی وفد کے امریکا سے مذاکرات کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ سفارتی رابطے کے معاملے پر اختلاف برقرار ہے۔