اسرائیلی فضائی حملے شام

ابوالظہور ملٹری ائیربیس پر اسرائیل کے 8 فضائی حملے

شمال مغربی شام میں ابو الظہور ملٹری ائیربیس پر اسرائیل نے 8 فضائی حملے کیے۔ اسرائیلی فضائی حملے شام میں ائیربیس کے رن وے اور اسٹوریج تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک فوجی ذریعے اور ائیربیس کے قریب رہائش پذیر شہری نے حملوں کی تصدیق کی۔ ذرائع کے مطابق حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ترک سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر دور واقع ابو الظہور ائیربیس 2013 سے غیر فعال تھا۔ شام کی 14 سالہ خانہ جنگی کے دوران اڈے کا کنٹرول مختلف گروہوں کے درمیان تبدیل ہوتا رہا۔

فوجی ذریعے کے مطابق 2024 کے اواخر میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد ائیربیس کو شام کی نئی فوج کے تربیتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ حملوں میں اڈے کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ حملے شام کی جانب سے اگست کے اوائل میں فضائی مشقوں کے بعد کیے گئے۔ مشقوں میں روسی ساختہ MiG-21 لڑاکا طیارے استعمال کیے گئے، جو اسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی ایسی مشقیں تھیں۔

اسرائیلی فضائی حملے شام پر امریکا کے خصوصی صدارتی ایلچی برائے شام و عراق ٹام بیرک نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے حملوں کو غیر ضروری اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے علاقائی استحکام کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

ٹام بیرک نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا حملوں پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ تازہ حملوں سے شام کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین