کشنر نیتن یاہو مذاکرات

کشنر کی نیتن یاہو سے ملاقات، غزہ امن منصوبے پر بات چیت ہوگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی جیرڈ کشنر پیر کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔ کشنر نیتن یاہو مذاکرات حماس نمائندوں سے قاہرہ میں ہونے والی نایاب ملاقات کے بعد ہو رہے ہیں۔

ایک سفارتی ذریعے کے مطابق حماس رہنما خلیل الحیہ نے قاہرہ میں ثالثوں اور کشنر کے درمیان ہونے والی بعض ملاقاتوں میں شرکت کی۔ ٹرمپ کے غزہ کے لیے ایلچی نکولے ملادینوف بھی مذاکرات میں شریک تھے۔ ملاقاتوں میں غزہ امن منصوبے پر پیش رفت کے طریقوں پر بات ہوئی۔

قاہرہ میں ہونے والی ملاقات حماس نمائندوں کے ساتھ کشنر کی دوسری معلوم ملاقات تھی۔ اس سے قبل انہوں نے اکتوبر 2025 میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ہمراہ حماس حکام سے ملاقات کی تھی۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں غزہ جنگ بندی اور باقی یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ ہوا تھا۔

ٹرمپ نے جولائی کے آخر میں کہا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ منصوبے کے تحت عملدرآمد مرحلہ وار ہوگا۔ اس میں غیر مسلح ہونے کے عمل کے ساتھ اسرائیلی فوج کا انخلا بھی شامل ہے۔

منصوبے میں غزہ کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس اور نئی فلسطینی پولیس فورس کی تجویز بھی شامل ہے۔ تاہم اکتوبر میں انتخابات سے قبل نیتن یاہو نے ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کیا ہے۔ کشنر نیتن یاہو مذاکرات میں منصوبے کے اختلافی نکات زیر بحث آسکتے ہیں۔

حماس نے کہا ہے کہ وہ مجوزہ منصوبے سے متفق ہے، لیکن عملدرآمد کو اسرائیلی وعدوں سے مشروط کیا ہے۔ حماس کے مطابق اسرائیلی فوج کا انخلا اور حملوں کا خاتمہ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے ضروری ہے۔

تازہ سفارتی کوششیں غزہ کے لیے سیاسی حل تلاش کرنے کی نئی کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ قاہرہ میں حماس حکام سے ملاقات کے بعد کشنر کی نیتن یاہو سے بات چیت اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ کشنر نیتن یاہو مذاکرات آئندہ مذاکرات کی سمت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین