امریکی ریپر Macklemore نے نیوجرسی میں ہونے والے ایک بڑے کنسرٹ کے دوران فلسطین کے حق میں اپنی آواز بلند کی اور فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ پرفارمنس کے دوران انہوں نے فلسطین کی آزادی کے نعرے لگائے اور غزہ و مغربی کنارے کے عوام کو پیغام دیا کہ انہیں فراموش نہیں کیا گیا۔
میکلمور نے اپنی پرفارمنس کے دوران فلسطین سے متعلق اپنے معروف گانے "Hind’s Hall” کو بھی پیش کیا۔ گانے کے ساتھ اسکرین پر غزہ کے مناظر اور فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی پر مبنی پیغامات دکھائے گئے، جس سے کنسرٹ کا ماحول سیاسی اور انسانی حقوق کے موضوعات سے جڑ گیا۔
رپورٹ کے مطابق کنسرٹ میں تقریباً 80 ہزار افراد موجود تھے۔ میکلمور نے گلے میں فلسطینی کفایہ پہن کر اسٹیج پر پرفارم کیا اور آزادی و مساوات کے حق میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
Macklemore opened for Ed Sheeran at MetLife Stadium wearing a keffiyeh, performed "Hind’s Hall” with Gaza footage on the screens, and told 80,000 people he wanted those in Gaza and the West Bank to know "they have not been forgotten.”
He said every human being deserves "the… pic.twitter.com/4J7fB1zEI4
— Clash Report (@clashreport) September 6, 2026
امریکی ریپر نے کہا کہ دنیا کا ہر شہری برابر کی آزادی کا مستحق ہے۔ ان کے خطاب اور پرفارمنس نے فلسطین کے معاملے کو ایک بار پھر عالمی تفریحی صنعت اور عوامی پلیٹ فارم پر نمایاں کیا۔
میکلمور اس سے قبل بھی فلسطین کے معاملے پر اپنے مؤقف کے باعث خبروں میں آ چکے ہیں۔ ان کا گانا "Hind’s Hall” غزہ میں جاری انسانی بحران اور فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے تناظر میں خاصی توجہ حاصل کر چکا ہے۔
کنسرٹ کے دوران میکلمور نے فلسطین کے علاوہ ایران، لبنان، کیوبا اور سوڈان کے لیے بھی آزادی کے نعرے لگائے۔ اس طرح ان کی پرفارمنس نے مختلف ممالک میں آزادی اور انسانی حقوق کے موضوعات کو اجاگر کیا۔