مراکش سے پیرا گلائیڈر کے ذریعے اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ایک نوجوان تارک وطن سمندر میں گر کر ہلاک ہوگیا۔ واقعہ جمعہ کو سیوٹا کی شمالی سرحد کے قریب پیش آیا، جہاں سیکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے لاش برآمد کی۔
اسپین کی خبر رساں ایجنسی ای ایف ای نے سول گارڈ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہلاک ہونے والا نوجوان سب صحارا افریقہ سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ مبینہ طور پر مراکش کی جانب سے پیرا گلائیڈر کے ذریعے سیوٹا پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔
واقعہ صبح تقریباً 8 بجے پیش آیا جب سول گارڈ کے اہلکاروں نے مراکش کی سرحد کے قریب بینزو کے پہاڑی علاقے سے ایک شخص کو پیرا گلائیڈر کے ذریعے سیوٹا کی جانب جاتے دیکھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ علاقے کی شمالی سرحد کے قریب اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق تارک وطن پیرا گلائیڈر پر قابو کھو بیٹھا اور سمندر میں جاگرا۔ سول گارڈ کے اہلکاروں نے فوری طور پر جائے وقوعہ کا رخ کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ نوجوان اب بھی زندہ ہوسکتا ہے، تاہم وہاں پہنچنے پر اس کی موت کی تصدیق ہوگئی۔
ہلاک ہونے والے تارک وطن کی لاش بعد ازاں اسپین کے سول گارڈ کی میری ٹائم سروس کی تنصیبات میں منتقل کردی گئی۔ حکام نے نوجوان کی شناخت یا اس خطرناک سفر کی کوشش کی وجوہات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ مبینہ طور پر سیوٹا میں تارک وطن کی ہلاکت کا پہلا واقعہ ہے جس میں اسپین کے اس علاقے میں پیرا گلائیڈر کے ذریعے داخل ہونے کی کوشش کے دوران کسی تارک وطن کی موت ہوئی۔ سیوٹا مراکش کے شمالی ساحل پر واقع اسپین کا علاقہ ہے اور یورپ پہنچنے کے خواہش مند تارکین وطن کے لیے اہم راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
سول گارڈ کے مطابق گزشتہ سال سے سب صحارا افریقہ سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی جانب سے پیرا گلائیڈر کے ذریعے سیوٹا پہنچنے کی کئی الگ الگ کوششیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ حکام نے متعدد حادثات کی بھی اطلاع دی ہے اور ان کی ایک وجہ پیرا گلائیڈر چلانے میں تارکین وطن کا محدود تجربہ قرار دیا ہے۔