وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان کو بچانے اور چلانے کا واحد طریقہ انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے پمز اسپتال کے سانحے کی انکوائری رپورٹ اور ملک کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق اپنی رائے بھی بیان کی۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پمز سانحے کی تفصیلی انکوائری رپورٹ میں 33 سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان کے مطابق تمام سفارشات پر عمل درآمد میں کچھ وقت لگے گا۔ رپورٹ میں اسپتال کے انتظام اور حفاظتی اقدامات سے متعلق خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق انکوائری میں ایک افسر سمیت 9 افراد کو قصوروار قرار دیا گیا اور انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 8 افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کے لیے وزارت داخلہ کو خط بھی ارسال کیا گیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے پمز میں اصلاحات سے متعلق اقدامات کی تفصیلات بھی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اسپتال کے فائر سیفٹی سسٹم اور عمارت کے اسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے تین ماہ کی مدت مقرر کی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پمز میں آئندہ 15 روز کے دوران 176 بستروں پر مشتمل نئی ایمرجنسی فعال ہو جائے گی۔ ان کے مطابق نئی ایمرجنسی سے اسپتال میں فوری طبی سہولیات کی گنجائش بڑھے گی اور ہنگامی صورتحال میں مریضوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
ملک کے انتظامی نظام پر بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ انتظامی یونٹس کے قیام سے پاکستان کو بہتر انداز میں چلانے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتوں کو وسائل اور اختیارات حاصل ہوئے، جبکہ ان کی مخالفت کو انہوں نے سیاسی اختیار برقرار رکھنے سے جوڑا۔
مصطفیٰ کمال کے بیان کے بعد انتظامی یونٹس کا معاملہ ایک بار پھر بحث میں آگیا ہے۔ دوسری جانب پمز سانحے کے حوالے سے حکومت نے انکوائری سفارشات پر عمل درآمد، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور اسپتال کے فائر سیفٹی و ایمرجنسی نظام میں بہتری کے اقدامات شروع کیے ہیں۔