پاکستان اور بنگلہ دیش نے خطے میں منشیات کی روک تھام کے لیے اہم پیش رفت کرتے ہوئے پاکستان بنگلہ دیش منشیات معاہدہ پر دستخط کر دیے ہیں جس کا مقصد اسمگلنگ اور منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے خلاف مشترکہ کارروائی کو مضبوط بنانا ہے۔
یہ مفاہمتی یادداشت ڈھاکہ میں پاکستان کے وزیر داخلہ Mohsin Naqvi کے دورے کے دوران دستخط کی گئی جہاں انہوں نے بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ Salahuddin Ahmed سے ملاقات کی۔
اس پاکستان بنگلہ دیش منشیات معاہدہ کے تحت دونوں ممالک غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ روکنے اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ دونوں ممالک نے معلومات کے تبادلے اور تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
ڈھاکہ۔وفاقی وزیرداخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی کی بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد سے ملاقات
وزرائے داخلہ کا دونوں وزارت داخلہ کے درمیان سیکرٹری لیول جوائنٹ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق pic.twitter.com/A5LVsVWWga— Ministry of Interior GoP (@MOIofficialGoP) May 9, 2026
معاہدے کے مطابق سیکریٹری سطح کا ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بھی قائم کیا جائے گا جو انٹیلی جنس شیئرنگ، حکمت عملی اور کارروائیوں کو مربوط کرے گا تاکہ منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
دونوں ممالک نے جدید ٹیکنالوجی، تربیتی پروگراموں اور بہترین عملی طریقوں کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔
دورے کے دوران پاکستان نے بنگلہ دیش کے سیف سٹی منصوبے میں تعاون کی پیشکش بھی کی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان ہر ممکن تکنیکی مدد فراہم کرے گا۔
یہ پاکستان بنگلہ دیش منشیات معاہدہ صرف منشیات تک محدود نہیں بلکہ دہشت گردی، سائبر کرائم، انسانی اسمگلنگ اور مالی فراڈ جیسے جرائم کے خلاف بھی تعاون کو مضبوط بناتا ہے۔