وفاقی بجٹ 2026-27 قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جہاں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیا۔ اجلاس میں حکومت نے معاشی صورتحال، دفاعی اخراجات اور ترقیاتی اہداف پر روشنی ڈالی۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ تیسرا بجٹ پیش کرنا ان کے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری اور مختلف شعبوں میں ترقی کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سالوں میں صنعتی اور خدمات کے شعبے میں بہتری آئی ہے جبکہ مجموعی معیشت کا حجم اور فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق وفاقی بجٹ 2026-27 میں دفاعی اخراجات کو ترجیح دی گئی ہے اور اس مد میں تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سول انتظامیہ اور دیگر ضروری اخراجات کے لیے بھی خطیر رقوم رکھی گئی ہیں۔
بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی، پنشن، سبسڈی اور ہنگامی اخراجات کے لیے بھی بڑی رقم مختص کی گئی ہے، جس سے مجموعی اخراجات میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس وصولی کے ہدف میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں بہتری آئی ہے اور مالی خسارہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم ہو رہا ہے، جو معاشی استحکام کی علامت ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 میں مجموعی ٹیکس ہدف 15 ہزار ارب روپے سے زائد رکھا گیا ہے اور حکومت نے معاشی استحکام اور ترقی کے تسلسل کی امید ظاہر کی ہے۔