پاکستان ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی کا باضابطہ اعلان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنے بورڈ اجلاس کے بعد کیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان میں خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر ملک کے بڑھتے ہوئے کرکٹ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ ٹورنامنٹ خواتین کرکٹ کے سب سے بڑے عالمی مقابلوں میں شمار ہوتا ہے اور پاکستان کو اپنی جدید کرکٹ سہولیات اور انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے کئی بین الاقوامی کرکٹ ایونٹس کی کامیاب میزبانی کی ہے۔
موجودہ آئی سی سی انتظامات کے تحت اگر ٹورنامنٹ میں بھارت کی ٹیم شریک ہوتی ہے تو اس کے تمام میچز ایک غیر جانبدار مقام پر کھیلے جائیں گے۔ یہ اصول پاکستان اور بھارت کے درمیان طے شدہ فریم ورک کے مطابق برقرار رہے گا۔
پاکستان ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کی منظوری کے ساتھ آئی سی سی نے کھیل کے قوانین میں بھی کئی اہم تبدیلیوں کی منظوری دی۔ ان میں ٹیسٹ کرکٹ میں دونوں ٹیموں کی رضامندی سے گلابی گیند کے استعمال کا آزمائشی منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ خراب روشنی کی وجہ سے کھیل کے ضائع ہونے والے وقت کو کم کیا جا سکے۔
آئی سی سی نے یہ بھی اعلان کیا کہ ٹی20 انٹرنیشنلز میں اننگز کے درمیان وقفہ بڑھا کر 15 منٹ کر دیا جائے گا۔ اس تبدیلی کا مقصد ٹیموں، منتظمین اور براڈکاسٹرز کو بہتر تیاری کے لیے اضافی وقت فراہم کرنا ہے۔
خواتین کرکٹ کے حوالے سے ویمنز چیمپئنز ٹرافی 2027 کے شیڈول میں تبدیلی کی گئی ہے اور اب یہ ایونٹ 14 سے 28 فروری 2027 تک منعقد ہوگا۔ اسی طرح ایمرجنگ نیشنز ٹرافی 2026 میں 10 ٹیمیں شریک ہوں گی جن میں مکمل اور ایسوسی ایٹ اراکین شامل ہوں گے۔
پاکستان ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کے اعلان کے ساتھ آئی سی سی نے دیگر انتظامی فیصلے بھی کیے۔ کینیڈا کرکٹ بورڈ کی رکنیت معطل کردی گئی جبکہ قومی ٹیم کو عالمی مقابلوں میں شرکت کی اجازت برقرار رہے گی۔ بورڈ نے فرنچائز کرکٹ کے بڑھتے ہوئے اثرات کا جائزہ لینے اور بین الاقوامی کرکٹ کیلنڈر کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔