وفاقی حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے باوجود مالی سال 2025-26 کے پہلے نو ماہ کے دوران پاکستان کے پیٹرولیم درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق جولائی تا مارچ کے عرصے میں ملک نے مجموعی طور پر 8 ارب 93 کروڑ ڈالر مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 53 کروڑ ڈالر زیادہ ہیں۔
اقتصادی سروے کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مجموعی کھپت ایک کروڑ 36 لاکھ میٹرک ٹن رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.5 فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق کھپت میں یہ اضافہ بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی طلب کا نتیجہ ہے۔
ٹرانسپورٹ سیکٹر پیٹرولیم مصنوعات کا سب سے بڑا صارف رہا، جہاں ایندھن کی کھپت میں 6.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس شعبے کا مجموعی طلب میں حصہ 82 فیصد رہا، جبکہ کھپت ایک کروڑ میٹرک ٹن سے بڑھ کر ایک کروڑ 12 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب صنعتی شعبے میں پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ سروے کے مطابق صنعتی شعبے کی کھپت 42.6 فیصد کم ہو کر 7 لاکھ 54 ہزار میٹرک ٹن سے گھٹ کر 4 لاکھ 33 ہزار میٹرک ٹن رہ گئی۔ مجموعی طلب میں اس شعبے کا حصہ صرف 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
پاور سیکٹر میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 15 فیصد کمی آئی، جبکہ گھریلو شعبے میں استعمال 51 فیصد تک کم ہو گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع اور ایندھن کے بڑھتے اخراجات نے ان شعبوں میں کھپت کو متاثر کیا ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق جولائی تا مارچ 2025 کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل 8 ارب 40 کروڑ ڈالر تھا، جو مالی سال 2025-26 کے اسی عرصے میں بڑھ کر 8 ارب 93 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ اس طرح درآمدی اخراجات میں مجموعی طور پر 53 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
درآمدی تفصیلات کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 2 ارب 96 کروڑ ڈالر مالیت کا پیٹرول درآمد کیا گیا، جبکہ خام تیل کی درآمدات 5 ارب ڈالر رہیں۔ اسی دوران 74 کروڑ 79 لاکھ ڈالر مالیت کا ڈیزل اور 13 کروڑ 83 لاکھ ڈالر کا ہائی اوکٹین ایندھن بھی درآمد کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں اور مقامی طلب میں اضافے نے درآمدی بل میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔