اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے پاکستان میں سود سے پاک مالیاتی نظام کے نفاذ کے لیے ایک جامع حکمت عملی جاری کر دی ہے، جس کے تحت موجودہ مالیاتی ڈھانچے کو مرحلہ وار اسلامی مالیاتی نظام میں تبدیل کیا جائے گا۔ حکومتی مؤقف کے مطابق یہ منتقلی بتدریج ہوگی تاکہ ملکی معیشت، بینکاری نظام اور مالیاتی استحکام پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔
وزارتِ خزانہ کی رپورٹ "2027 کے بعد پاکستان کے مالیاتی نظام سے متعلق حکمتِ عملی” کے مطابق سود سے پاک مالیاتی نظام کا مکمل نفاذ کئی اہم قانونی، مالیاتی اور انتظامی چیلنجز سے مشروط ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان رکاوٹوں کو مرحلہ وار حل کرتے ہوئے نئے نظام کو نافذ کیا جائے گا تاکہ معاشی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی کی بنیاد وفاقی شرعی عدالت کے 2022 کے فیصلے اور آئینی تقاضوں پر رکھی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اسلامی مالیاتی نظام کی جانب منتقلی ایک منظم اور تدریجی عمل ہوگا، جس کے دوران متعلقہ اداروں کو نئی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے گا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق روایتی بینکاری نظام کو اسلامی مالیات سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مختلف تربیتی پروگرام شروع کیے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان 2027 کے بعد اپنی زری پالیسی کو بھی شریعت سے ہم آہنگ اصولوں کے مطابق ترتیب دینے پر کام کرے گا۔
رپورٹ میں موجودہ سرکاری قرضوں کو شرعی اصولوں کے مطابق مالیاتی ذرائع میں تبدیل کرنا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے اثاثہ رجسٹری کمپنی کے قیام، سکوک کے اجرا اور دیگر اسلامی مالیاتی ذرائع کے فروغ کو حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا گیا ہے تاکہ حکومتی مالی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
وزارتِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ دسمبر 2027 تک وفاقی اور صوبائی قوانین میں ضروری ترامیم مکمل کرنا اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہوگا۔