اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف جولائی 2026 کے پہلے ہفتے میں ایران کے سرکاری دورے پر روانہ ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس دورے کا مقصد ایران میں منعقد ہونے والی تعزیتی تقریب میں شرکت اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ شہباز شریف ایران دورہ حالیہ دنوں میں خطے کی اہم سفارتی سرگرمیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف 3 جولائی کو تہران میں منعقد ہونے والی تعزیتی تقریب میں شریک ہوں گے، جہاں مختلف ممالک کی اعلیٰ شخصیات کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اس دورے کے دوران پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات، علاقائی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال ہونے کا امکان ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے دورے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کا بھی مختصر دورہ کریں گے۔ اگرچہ اس دورے کی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم سفارتی حلقے اسے خطے میں پاکستان کے فعال خارجہ روابط کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب مجلس شوریٰ اسلامی ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے نام ایک خصوصی خط ارسال کیا ہے۔ خط میں انہیں تہران میں منعقد ہونے والی تعزیتی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جبکہ پاکستانی عوام، قومی اسمبلی اور اس کی قیادت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
ایرانی اسپیکر نے اپنے پیغام میں پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی تعلقات، باہمی احترام اور مشترکہ تعاون کو مزید فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے پارلیمانی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
سفارتی ماہرین کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان سیاسی اعتماد میں اضافے، اقتصادی تعاون کے نئے امکانات اور علاقائی استحکام کے حوالے سے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ دونوں ممالک پہلے ہی تجارت، سرحدی تعاون اور توانائی سمیت متعدد شعبوں میں روابط بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں۔
شہباز شریف ایران دورہ نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے بلکہ یہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی کوششوں کا بھی عکاس ہے۔ آئندہ دنوں میں اس دورے سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔