ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پزشکیان ایران مزاحمت کو بھرپور طاقت کے ساتھ جاری رکھے گا، جب تک جارحیت کرنے والوں کو مکمل پچھتاوے کا سامنا نہ ہو۔ ان کا بیان خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران سامنے آیا۔
پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ جنگ کی مخالفت کرتا رہا ہے اور تنازع شروع کرنے کے حق میں نہیں۔ ان کے مطابق عوام کے مفادات اور علاقائی سلامتی کا تحفظ کشیدگی کو ہوا دینے سے گریز میں ہے۔
ایرانی صدر نے علاقائی استحکام کے لیے تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی پالیسی اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے سے بچنے پر مبنی رہی ہے۔
تاہم پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران جارحیت کے خلاف اپنا دفاع جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ایران نے اب تک حملوں کے جواب میں مضبوط مؤقف اختیار کیا ہے اور آئندہ بھی بھرپور مزاحمت جاری رکھے گا۔
جمهوری اسلامی ایران همواره با جنگ مخالف بوده و حفظ منافع مردم و امنیت منطقه را در پرهیز از آتش افروزی دانسته است. اما چنانکه تا امروز در برابر تجاوز، دلیرانه به دفاع برخاسته است این مقاومت را تا پشیمانی کامل متجاوزان با قوت ادامه خواهد داد و پاسدار حقوق ملت بزرگ ایران خواهد بود.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) September 8, 2026
پزشکیان ایران مزاحمت کے حوالے سے بیان میں ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔ صدر نے کہا کہ ایران عظیم ایرانی قوم کے حقوق کے محافظ کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔
پزشکیان نے یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیا۔ انہوں نے جنگ کی مخالفت کے ایران کے مؤقف کو دہرایا، تاہم جارحیت کے خلاف جواب دینے کے عزم پر بھی زور دیا۔
پزشکیان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک طرف جنگ کے پھیلاؤ کی مخالفت کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب مضبوط دفاعی مؤقف برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جارحیت کرنے والوں کو مکمل پچھتاوے تک ایران مزاحمت جاری رکھے گا۔