ایران کی غیر ملکی تجارت

 امریکی پابندیوں سے ایران کی تجارت 35 فیصد کم ہوگئی

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کی غیر ملکی تجارت امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث تقریباً 35 فیصد کم ہوگئی ہے۔ ان کا بیان جاری جنگ کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔

ایرانی قیادت نے جنگ کے چھٹے ماہ میں معیشت پر بڑھتے دباؤ کا اعتراف کیا ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے بھی حکومت پر زور دیا ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور اشیا کی قیمتوں سے متعلق مسائل پر توجہ دی جائے۔

مسعود پزشکیان نے بتایا کہ پابندیوں اور بحری نقل و حرکت میں رکاوٹوں نے ایران کی درآمدات اور برآمدات کو متاثر کیا ہے۔ تاہم، ان کے مطابق امریکا کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت کی محدود اجازت کے دوران ایران تقریباً 90 ملین بیرل تیل فروخت کرنے میں کامیاب رہا۔

ایران کی غیر ملکی تجارت میں کمی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا نے تہران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن نے مختلف ممالک کو ایران کے ساتھ کاروباری روابط محدود کرنے کی تنبیہ بھی کی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے منسلک اداروں اور افراد کے خلاف بھی نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان اقدامات میں مصر کے بینک مصر کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے، تاہم مصر کے مطابق پابندی مخصوص ڈالر لین دین تک محدود ہے۔

معاشی دباؤ نے ایران کے داخلی مسائل میں بھی اضافہ کیا ہے۔ گزشتہ ماہ ملک میں سالانہ مہنگائی 66 فیصد تک پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ حکومت کو قیمتوں، روزگار اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی سے متعلق چیلنجز کا سامنا ہے۔

معاشی دباؤ کے ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے پر بات کی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کو تعمیری قرار دیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین