پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف 23 سے 25 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔ اس اہم شہباز شریف دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور معاشی تعاون بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
دورۂ چین کے دوران وزیراعظم شہباز شریف چینی صدر Xi Jinping اور چینی وزیراعظم Li Qiang سے اہم ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور اقتصادی شراکت داری پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
حکام کے مطابق شہباز شریف دورہ چین کے دوران پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کی تقریبات میں بھی شرکت کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کئی دہائیوں سے تجارت، دفاع، انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
اس دورے میں مختلف معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کا بھی امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق توانائی، ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں میں نئے تعاون پر پیش رفت ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک معاشی روابط مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک بھی اس دورے کا اہم محور ہوگا۔ پاکستانی اور چینی حکام جاری منصوبوں کا جائزہ لینے کے ساتھ نئی سرمایہ کاری اور ترقیاتی مواقع پر بھی بات چیت کریں گے۔ اقتصادی تعاون بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق شہباز شریف دورہ چین ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان بیرونی سرمایہ کاری اور علاقائی شراکت داری کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس دورے سے کئی اہم منصوبوں میں تیزی آنے اور تجارتی تعلقات مضبوط ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ اسلام آباد اور بیجنگ کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اور چین کے 75 سالہ تعلقات کے موقع پر ہونے والی یہ ملاقاتیں مستقبل میں تعاون کے نئے دروازے کھول سکتی ہیں۔