پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، جہاں مبینہ طور پر حکومت سے مذاکرات کے اختیار پر پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلاف سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارٹی کی سیاسی حکمت عملی، قیادت اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے دوران پارٹی رہنما اعظم سواتی نے مبینہ طور پر کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے انہیں مذاکرات کرنے کا اختیار دیا تھا۔ اس موقع پر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لیے گئے تھے اور انہوں نے مذاکرات کے اختیار سے متعلق دریافت کیا تھا۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق عمران خان نے اعظم سواتی کو مذاکرات کا اختیار دینے کی تردید کی تھی۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے مذاکرات کی ذمہ داری علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو سونپی تھی۔ ذرائع کے مطابق اس گفتگو کے بعد اعظم سواتی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ تاہم، ان تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

اس سے قبل سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کی اکثریت حکومت سے مذاکرات کے حق میں تھی۔ نور الحق قادری نے مبینہ طور پر تین مرتبہ مذاکرات کا ذکر کیا، جس پر شرکا نے تالیاں بجا کر ان کی تائید کی۔ دوسری جانب مشعال یوسفزئی نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن قیادت کی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے لانگ مارچ کے بجائے مذاکرات پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

اسد قیصر کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ شفقت اعوان نے بھی پارٹی ارکان پر الزامات عائد کرنے کے بجائے حکومت کو سیاسی طور پر جواب دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تقاریر کے دوران بار بار مداخلت پر پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے مشعال یوسفزئی سے ناراضی کا اظہار بھی کیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے ایک اعلامیے میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو صوبائی خودمختاری اور آئین پر حملہ قرار دیا۔ اعلامیے میں ان اقدامات کو فوری طور پر ختم کرنے اور سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی حکومت بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ پارٹی نے منتخب قیادت، تنظیموں اور کارکنوں کے خلاف چھاپوں اور گرفتاریوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔

اعلامیے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قیادت، فیصلوں اور سیاسی وژن سے غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا گیا۔ پارٹی نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قانونی تقاضوں کے مطابق فوری رہائی، زیر حراست رہنماؤں کی آزادی اور عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کا مطالبہ بھی کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین