پشاور: خیبرپختونخوا میں ایم پاکس (منکی پاکس) کے کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مزید 4 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں ایم پاکس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 18 ہوگئی ہے۔ تازہ صورتحال کے پیش نظر بیماری کی علامات سے آگاہی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
محکمہ صحت نے بتایا کہ صوبے میں سب سے زیادہ 5 کیسز پشاور سے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ رپورٹ کے مطابق اس بیماری سے ایک شخص جاں بحق بھی ہوا ہے۔
صحت حکام کے مطابق ایم پاکس کی عام علامات میں بخار، سر درد، جسم میں درد اور جلد پر دانے یا چھالے نکلنا شامل ہیں۔ ان علامات کی صورت میں، خصوصاً کسی متاثرہ شخص سے قریبی رابطے کی تاریخ موجود ہو، تو طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے۔
محکمہ صحت نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ ایم پاکس سے متاثرہ افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کریں۔ بیماری کے ممکنہ پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا اور طبی ماہرین کی ہدایات پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔
ماہرین صحت کی عمومی ہدایات کے مطابق بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر خود تشخیص کرنے کے بجائے مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہے۔ بروقت طبی معائنہ متاثرہ فرد کی مناسب دیکھ بھال اور آئندہ اقدامات کے تعین میں مدد دے سکتا ہے۔