اردن میں چرچ پر حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کے واقعے میں ملوث ہونے کے شبہے میں تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق جمعے کو ہونے والے اس حملے میں نو افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے تھے۔ واقعہ اردن کے علاقے کرک کے ایک یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں جنازے کے دوران پیش آیا تھا۔
اردن کے محکمۂ امن عامہ کے مطابق سکیورٹی فورسز نے پیر کی صبح تینوں مشتبہ افراد کو کرک میں ایک خالی مکان سے تلاش کیا۔ یہ علاقہ دارالحکومت عمان سے تقریباً 120 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ حکام کے مطابق مشتبہ افراد گرفتاری سے قبل اسی مکان میں چھپے ہوئے تھے۔
محکمۂ امن عامہ نے بتایا کہ مشتبہ افراد نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور سکیورٹی فورسز پر فائرنگ شروع کر دی۔ اہلکاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے تینوں افراد کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ کارروائی کے دوران کوئی سکیورٹی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ حکام نے گرفتار افراد کے قبضے سے متعدد اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔
فائرنگ کا واقعہ حمود نامی گاؤں میں یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے اندر پیش آیا، جہاں لوگ جنازے میں شریک تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کئی منٹ تک جاری رہی، جس سے وہاں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس واقعے میں نو افراد جان سے گئے جبکہ 40 دیگر زخمی ہوئے۔
اردن کے حکام نے حملہ آوروں کو انتہا پسند دہشت گرد قرار دیا ہے۔ تاہم، حکام نے گرفتار افراد کی وابستگی ظاہر نہیں کی اور نہ ہی کسی معلوم عسکری تنظیم سے ان کے تعلق کی تصدیق کی ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ اب تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
وزیر داخلہ مازن الفریایہ نے پیر کو کہا کہ حکام ان عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے باعث نوجوان انتہا پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حملے میں ملوث پائے جانے والے ہر شخص کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔ دوسری جانب محکمۂ امن عامہ نے کہا کہ اردن میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں اور گرفتاریوں کو تحقیقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے ملک کی مسیحی اقلیت پر حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کو سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اردن کو مشرق وسطیٰ کے نسبتاً مستحکم ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ حکام ماضی میں متعدد عسکری منصوبے ناکام بنانے کا دعویٰ کر چکے ہیں، تاہم چرچ پر اس مہلک حملے نے داخلی سکیورٹی اور انتہا پسندی کی روک تھام سے متعلق خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں۔