پاکستان ایتھوپیا اقتصادی تعاون بڑھانے کے لیے دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی روابط مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر عمر حسین اوبا نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ پیر کو ہونے والی اس ملاقات میں دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے ترقیاتی تجربات میں مماثلت اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔ فریقین نے اقتصادی ترقی کے لیے معلومات کے تبادلے اور مؤثر حکمت عملیوں سے استفادے پر زور دیا۔ اس موقع پر دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایتھوپیا کے سفیر کو پاکستان میں جاری معاشی اصلاحات اور اقتصادی ترقی کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے معاشی حالات بہتر بنانے اور مالیاتی استحکام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مواقع بھی زیر بحث آئے۔
دونوں ممالک کے درمیان بینکاری روابط مضبوط بنانا بھی ملاقات کا اہم موضوع رہا۔ فریقین نے تجارتی سرگرمیوں اور مالیاتی لین دین میں سہولت کے لیے بینکاری تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ بہتر مالیاتی روابط کاروباری اداروں کو نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
ملاقات میں علاقائی تنازعات کے توانائی کی فراہمی، کھاد کی دستیابی اور غذائی تحفظ پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے بیرونی معاشی دھچکوں سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری اور باہمی تعاون کو اہم قرار دیا۔ توانائی اور کھاد کی فراہمی میں رکاوٹیں زرعی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔
پاکستان اور ایتھوپیا نے فضائی رابطوں اور عوامی روابط کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ بہتر فضائی رابطوں سے کاروباری دوروں، سیاحت اور پیشہ ورانہ تبادلوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان تعلقات مضبوط ہونے سے تعاون کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے پاکستان ایتھوپیا اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مسلسل رابطے برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقین کی توجہ تجارت بڑھانے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اقتصادی و مالیاتی تعلقات مضبوط بنانے پر ہے۔ تاہم، ملاقات کے بعد تجارت کے لیے کوئی مخصوص ہدف، سرمایہ کاری کی رقم یا نئے معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔