امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات سے ایک روز قبل عوام سے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل کردی۔ پیر کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے نیتن یاہو کو جنگ کے دوران اہم کردار ادا کرنے والا وزیراعظم قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی عوام انہیں منتخب کریں تاکہ دونوں رہنما مل کر شروع کیے گئے کام کو مکمل کرسکیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کو ان کے معروف نام بی بی سے مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے ذریعے اہم فوجی کامیابیاں حاصل کیں۔ امریکی صدر نے اس تعاون کو جاری رکھنے پر زور دیا اور نیتن یاہو کی قیادت کو خطے میں اپنے مشترکہ مقاصد سے جوڑا۔
امریکی صدر نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات نے تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا۔ انہوں نے ان نعروں کا بھی ذکر کیا جن میں بعض گروہ اسرائیل کو ’’چھوٹا شیطان‘‘ اور امریکا کو ’’بڑا شیطان‘‘ کہتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایسے نعرے اب دنیا بھر میں سنائی نہیں دینے چاہییں۔
ٹرمپ کا تازہ بیان اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی حمایت کا تسلسل ہے۔ امریکی صدر اس سے پہلے 18 اکتوبر کو بھی اسرائیلی وزیراعظم کی حمایت کر چکے ہیں۔ ان کی نئی اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ملک کو سیاسی اختلافات اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔
نیتن یاہو نے ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو سیاسی اہمیت دی ہے، خصوصاً ایران اور علاقائی سکیورٹی کے معاملات میں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون میں ایرانی اہداف کے خلاف فوجی کارروائیاں بھی شامل رہی ہیں۔ تاہم، مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور علاقائی پالیسی کے بعض معاملات پر دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ نے قومی اتحاد اور سکیورٹی کو اپنی انتخابی مہم کا اہم حصہ بنایا ہے۔ انہوں نے اس مؤقف پر بھی زور دیا ہے کہ ملک کی قیادت کا فیصلہ اسرائیلی عوام کو خود کرنا چاہیے۔ انتخابی مہم میں سکیورٹی، حکمرانی اور ملک کے مستقبل سے متعلق مختلف مؤقف زیر بحث ہیں۔
اسرائیلی پارلیمانی انتخابات 27 اکتوبر کو ہوں گے، جن میں سیاسی جماعتیں نئی حکومت بنانے کے لیے مقابلہ کریں گی۔ ٹرمپ کی براہ راست اپیل نے انتخابی مہم کو بین الاقوامی توجہ بھی دلائی ہے۔ تاہم، ان کی حمایت سے ووٹرز کے فیصلے پر کیا اثر پڑے گا، یہ واضح نہیں۔ انتخابات کے نتائج اسرائیل کی آئندہ پارلیمان اور ملکی و خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا تعین کریں گے۔