یو اے ای ایران خفیہ حملے کے حوالے سے ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے، جس میں امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران خفیہ طور پر فوجی کارروائی کی۔
رپورٹ کے مطابق اپریل کے آغاز میں ایران کے لاوان جزیرے پر واقع ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور ریفائنری کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب امریکہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کی تیاری کر رہا تھا۔ تاہم اس کارروائی کی نہ تو امریکہ اور نہ ہی یو اے ای نے باضابطہ تصدیق کی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اس کے جواب میں یو اے ای اور کویت پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
یو اے ای ایران خفیہ حملے کے تناظر میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے بڑی تعداد میں حملے کیے، جنہوں نے خطے کی صورتحال کو مزید غیر مستحکم بنا دیا۔
معاشی طور پر بھی اس صورتحال کے اثرات سامنے آئے، جن میں ملازمتوں میں کمی، جبری رخصتیاں اور سکیورٹی پالیسی میں تبدیلیاں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو مشرق وسطیٰ میں پہلے سے جاری بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اور عالمی سفارتی کوششیں مزید پیچیدہ ہو جائیں گی۔