امریکی صدر ٹرمپ نے پولینڈ میں مزید 5 ہزار امریکی فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے نیٹو اتحاد کے اندر سیکیورٹی پالیسیوں پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ پولینڈ میں امریکی فوجی تعیناتی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ پولینڈ کے نئے قدامت پسند صدر کرول ناوروکی کے ساتھ ان کے تعلقات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio سویڈن کے شہر ہلسنگ بورگ میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شریک تھے۔ اجلاس میں ایران جنگ، یورپی دفاع اور اتحادی ممالک کے کردار پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اجلاس کے دوران مارکو روبیو نے بعض نیٹو ممالک پر تنقید کی اور کہا کہ کچھ اتحادی امریکا کی فوجی کارروائیوں میں مکمل تعاون نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق فوجی اڈوں کے استعمال پر پابندیاں اتحاد کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
یورپی ممالک نے اپنی طرف سے نیٹو سے وابستگی اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور توانائی کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔
پولینڈ میں امریکی فوجی تعیناتی کے فیصلے نے نیٹو اتحادیوں میں سوالات پیدا کر دیے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب پہلے یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کم کرنے کے اشارے دیے گئے تھے۔ نئے فیصلے کے بعد اس کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہو سکیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور نیٹو کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کی نشاندہی کرتا ہے۔ بعض ممالک اسے مشرقی یورپ کے لیے تحفظ سمجھتے ہیں جبکہ دیگر اسے غیر یقینی پالیسی قرار دے رہے ہیں۔